دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے

ایک مٹھی میں میرے خواب

دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے
ہم یہاں کب ہیں یہاں ہوتے ہوئے

طعنہ زن اک تو نہیں دنیا بھی ہے
اورہم چپ ہیں زباں ہوتے ہوئے

دشمنوں سے دھوپ کیوں مانگے کوئی
دوستی کا سائباں ہوتے ہوئے

شعلۂِ غم آتشِ دل جو بھی ہو
وقت لگتا ہے دھواں ہوتے ہوئے

خاک ہونے کا تماشا کیا کریں
دشت کا دل میں سماں ہوتے ہوئے

تشنگی کا پاس رکھا ہے سعید
صحبتِ پیرِ مغاں ہوتے ہوئے

اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے